مرسلہ: بدھ نومبر 01, 2006 1:15 pm عنوان :: كتاب المقدمة
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لے کر تشریف لائے اور فرمایا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تورات کا ایک نسخہ ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) چپ ہوگئے ۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے پڑھنا شروع کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہونے لگا۔ حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : تمہاری ماں تم کو روئے ، کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا چہرا بدل رہا ہے؟
پھر عمر (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چہرے کی طرف دیکھا اور فرمایا : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے غصے سے ، ہم راضی ہوئے اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر ، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نبی ہونے پر !
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ، اگر آج موسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں اور تم لوگ میرے بجائے ان کی اتباع شروع کر دو ، تو سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاؤ گے ۔ اور اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری ہی اتباع کرتے ۔
سنن الدارمی
كتاب المقدمة
باب : ما يتقى من تفسير حديث النبي صلى الله عليه وسلم وقول غيره عند قوله صلى الله عليه وسلم
حدیث : 436
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=6&CID=4&SW=436#SR1
مرسلہ: منگل اپریل 17, 2007 1:28 pm عنوان :: في كراهية اخذ الراي
حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) ایک دفعہ کوفہ کی ایک مسجد میں داخل ہوئے۔ آپ نے دیکھا کہ لوگ مختلف حلقوں میں بٹے ہوئے تھے اور ہر حلقہ میں ایک آدمی کھڑا تھا جو ان سے کہتا : سو (100) بار سبحان اللہ کہو۔
لوگ سبحان اللہ کہنا شروع کر دیتے ۔
پھر وہ آدمی کہتا : سو (100) بار الحمد للہ کہو۔ تو لوگ الحمد للہ کہنا شروع کر دیتے۔
پھر وہی آدمی کہتا : سو (100) بار اللہ اکبر کہو۔ تو لوگ اللہ اکبر کہنا شروع کر دیتے۔
عبداللہ بن مسعود (ص) نے ان کو اس حالت میں دیکھ کر کہا :
اللہ کی قسم ! کیا تم ایسے دین پر ہو جو اللہ کے رسول سے زیادہ ہدایت والا ہے ؟ یا تم گمراہی کے دروازے کھول رہے ہو؟
سنن الدارمی
كتاب المقدمة
باب : في كراهية اخذ الراي
حدیث : 206
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=6&CID=3&SW=206#SR1
مرسلہ: ہفتہ اگست 25, 2007 5:49 am عنوان :: من رخص في كتابة العلم
حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی احادیث روایت کروں ۔ میرا ارادہ ہے کہ میں دل کے ساتھ ہاتھ سے لکھنے کی مدد بھی لوں ، اگر آپ پسند فرمائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ان کان حدیثی ثم استعن بیدک مع قلبک
اگر میری حدیث ہو تو اپنے دل کے ساتھ اپنے ہاتھ سے بھی مدد لو۔
سنن الدارمی
كتاب المقدمة
باب : من رخص في كتابة العلم
حدیث : 485
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=6&CID=5&SW=485#SR1