مرسلہ: پیر اکتوبر 30, 2006 11:34 am عنوان :: كتاب صفة القيامة والرقائق والورع
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے فرمایا :
اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کر ۔ اللہ تیری حفاظت فرمائے گا ۔ اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر ، تُو اس کو سامنے پائے گا ۔ جب تُو (کسی چیز کا) سوال کرے تو اللہ سے سوال کر ۔ اور جب تُو (کسی معاملے میں) مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ ۔
ترمذی
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب : 59
حدیث : 2706
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=9&CID=116&SW=2706#SR1
مرسلہ: اتوار نومبر 05, 2006 8:00 am عنوان :: باب : 60
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ چیز چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈال دے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ۔
ترمذی
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب : 60
حدیث : 2708
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=9&CID=116&SW=2708#SR1
مرسلہ: اتوار جنوری 07, 2007 8:58 am عنوان :: باب : في القيامة
حضرت ابو برزة رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قیامت کے دن بندہ اپنی جگہ سے اس وقت تک ہل بھی نہ سکے گا جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ ۔۔۔
اسے جو زندگی ملی تھی اسے کس کام میں کھپایا ؟
جو علم اس کو حاصل تھا اسے کہاں صرف کیا ؟
جو مال تھا ، وہ کس طرح کمایا ؟
مال کو کہاں خرچ کیا ؟
اور جو جسم عطا ہوا تھا اسے کن کاموں میں لگایا ؟
ترمذی
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب : في القيامة
حدیث : 2602
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=9&CID=115&SW=2602#SR1
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قیامت کے دن ابن آدم کے دونوں قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس کے رب کی طرف سے پانچ چیزیں پوچھ نہ لی جائیں:
اول اس کی عمر کے متعلق کہ کس میں صرف کی؟
دوسرے اس کی جوانی کے متعلق کہ کس میں خرچ کی؟
تیسرے اس کے مال کے متعلق کہ کہاں کمایا؟
چوتھے (اپنا مال) کس کام میں لگایا؟
پانچویں یہ کہ اپنے علم میں سے کیا عمل کیا؟
ترمذی
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب : في القيامة
حدیث : 2601
عربی متن :http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=9&CID=115&SW=2601#SR1